تضمین بر شعرِ ابوطالب کلیم

From Wikisource
Jump to navigation Jump to search
تضمین بر شعرِ ابوطالب کلیمؔ  (1924) 
by محمد اقبال

خوب ہے تجھ کو شعارِ صاحبِ یثرِبؐ کا پاس
کہہ رہی ہے زندگی تیری کہ تُو مسلم نہیں

جس سے تیرے حلقۂ خاتم میں گردُوں تھا اسیر
اے سلیماں! تیری غفلت نے گنوایا وہ نگیں

وہ نشانِ سجدہ جو روشن تھا کوکب کی طرح
ہوگئی ہے اُس سے اب ناآشنا تیری جبیں

دیکھ تو اپنا عمل، تجھ کو نظر آتی ہے کیا
وہ صداقت جس کی بے‌باکی تھی حیرت آفریں

تیرے آبا کی نِگہ بجلی تھی جس کے واسطے
ہے وہی باطل ترے کاشانۂ دل میں مکیں

غافل! اپنے آشیاں کو آ کے پھر آباد کر
نغمہ زن ہے طُورِ معنی پر کلیمِ نکتہ بیں

“سرکشی باہر کہ کردی رامِ او باید شدن
شعلہ ساں از ہر کجا برخاستی، آنجانشیں"


This work is now in the public domain in Pakistan because it originates from Pakistan and its term of copyright has expired. According to Pakistani copyright laws, all photographs enter the public domain fifty years after they were published, and all non-photographic works enter the public domain fifty years after the death of the creator.