Page:Diwan-e-Ghalib - Urdu (1922).djvu/8

From Wikisource
Jump to navigation Jump to search
This page has not been proofread.


________________

ہوں تار نیکیوں سائل و عالی باہمی ہے ابھی شب قدر و دیوالی باهم ختنہ کی بقا سے خلق کو شاد کرے یہ دی گئی ہے دشت میں گائش تا شا ہ شیوع دانش و داد کرے ہے شور کی افزائش اعدادکے اس رشتہ میں لا کھ تار ہوں کل سوال رسید کو ایک گرہ فرض کریں اتنے ہی برس شمار ہوں بلکہ سوا ایسی گرہیں مزار ہوں بلکہ سوا کتے ہیں کہ اب وہ مردم اتارنہیں جو باتھ نظر سے اٹھایا ہو گا عشاق کیپش سے اسے ماریں کیونکر مانوں کہ اس میں تلواریں ہم گر نے سلام کرنے والے کہتے ہیں کہیں خدا سے۔ الٹرالها کرتے ہیں ورنیک کام کرنے والے وہ آپ ہیں جو شام کرنے والے سامان خور ونواب کہاں سے لاوں آرام کے اسباب کہاں سے لاوں