ہے محبت سب کو اس کے ابروئے خم دار کی

From Wikisource
Jump to navigation Jump to search
ہے محبت سب کو اس کے ابروئے خم دار کی
by بخش ناسخ

ہے محبت سب کو اس کے ابروئے خم دار کی
ہند میں کیا آبرو باقی رہی تلوار کی

وصل کی شب چاندنی دیوار سے جانے نہ پائے
منتیں کرتا ہوں ہر خار سر دیوار کی

استرا پھرنے سے روئے یار پر ہے دور خط
چال اس کم بخت نے سیکھی ہے کیا پرکار کی

نشۂ مے کا گماں کرنے لگا وہ بدگماں
دیکھ کر سرخی ہمارے دیدۂ خوں بار کی

گھر بھی میرا منتظر ہے یار کا میری طرح
روزن در میں ہے صورت دیدۂ بیدار کی

کہتے ہو ہم خواب میں آتے جو تو سوتا کبھی
خوب کی برباد محنت دیدۂ بیدار کی

باغ عالم میں کہاں ہے کوئی مجھ سا رحم دل
روز کرتا ہوں عیادت نرگس بیمار کی

داغ سر ہیں جوش سودا میں برنگ گل مجھے
مثل گلبن پاؤں میں کب ہے شکایت خار کی

وہ خدا کا دوست ہے اور دوست ہے اس کا خدا
کیوں نہ ہو ناسخؔ محبت حیدر کرار کی


This work was published before January 1, 1928, and is in the public domain worldwide because the author died at least 100 years ago.