کرتا ہے چرخ روز بصد گونہ احترام

From Wikisource
Jump to navigation Jump to search
کرتا ہے چرخ روز بصد گونہ احترام
by مرزا غالب

کرتا ہے چرخ روز بصد گونہ احترام
فرمانرواے کشور پنجاب کو سلام
حق گوے و حق پرست و حق اندیش و حق شناس
نواب مستطاب امیر شہ احتشام
جم رتبہ میکلوڈ بہادر کہ وقت رزم
ترک فلک کے ہاتھ سے وہ چھین لیں حسام
جس بزم میں کہ ہو انھیں آہنگ میکشی
واں آسمان شیشہ بنے آفتاب جام
چاہا تھا میں نے تم کو مہ چاردہ کہوں
دل نے کہا کہ یہ بھی ہے تیرا خیال خام
دو رات میں تمام ہے ہنگامہ ماہ کا
حضرت کا عز و جاہ رہے گا علی الدوام
سچ ہے تم آفتاب ہو جس کے فروغ سے
دریاے نور ہے فلک آبگینہ فام
میری سنو کہ آج تم اس سر زمین پر
حق کے تفضلات سے ہو مرجع انام
اخبار لودھیانہ میں میری نظر پڑی
تحریر ایک جس سے ہوا بندہ تلخ کام
ٹکڑے ہوا ہے دیکھ کے تحریر کو جگر
کاتب کی آستیں ہے مگر تیغ کا نیام
وہ فرد جس میں نام ہے میرا غلط لکھا
جب یاد آگئی ہے کلیجا لیا ہے تھام
سب صورتیں بدل گئیں ناگاہ یک قلم
لمبر رہا نہ نذر نہ خلعت کا انتظام
ستر برس کی عمر میں یہ داغ جانگداز
جس نے جلا کے راکھ مجھے کردیا تمام
تھی جنوری مہینے کی تاریخ تیرہویں
استادہ ہو گئے لب دریا پہ جب خیام
اس بزم پر فروغ میں اس تیرہ بخت کو
لمبر ملا نشیب میں از روے اہتمام
سمجھا اسے گراب ہوا پاش پاش دل
دربار میں جو مجھ پہ چلی چشمک عوام
عزت پہ اہل نام کی ہستی کی ہے بنا
عزت جہاں گئی تو نہ ہستی رہی نہ نام
تھا ایک گونہ ناز جو اپنے کمال پر
اس ناز کا فلک نے لیا مجھ سے انتقام
آیا تھا وقت ریل کے کھلنے کا بھی قریب
تھا بارگاہ خاص میں خلقت کا ازدحام
اس کشمکش میں آپ کا مداح درد مند
آقاے نامور سے نہ کچھ کر سکا کلام
جو واں نہ کہہ سکا وہ لکھا ہے حضور کو
دیں آپ میری داد کہ ہوں فائز المرام
ملک و سپہ نہ ہو تو نہ ہو کچھ ضرر نہیں
سلطان بر و بحر کے در کا ہوں میں غلام
وکٹوریا کا دہر میں جو مدح خوان ہو
شاہان عصر چاہیے لیں عزت اس سے دام
خود ہے تدارک اس کا گورمنٹ کو ضرور
بے وجہ کیوں ذلیل ہو غالبؔ ہے جس کا نام
امر جدید کا تو نہیں ہے مجھے سوال
بارے قدیم قاعدے کا چاہیے قیام
ہے بندے کو اعادۂ عزت کی آرزو
چاہیں اگر حضور تو مشکل نہیں یہ کام
دستور فن شعر یہی ہے قدیم سے
یعنی دعا پہ مدح کا کرتے ہیں اختتام
ہے یہ دعا کہ زیر نگیں آپ کے رہے
اقلیم ہند و سند سے تا ملک روم و شام


This work was published before January 1, 1928, and is in the public domain worldwide because the author died at least 100 years ago.