کانٹا تھا چشم یاس میں ایک ایک رنگ گل

From Wikisource
Jump to navigation Jump to search
کانٹا تھا چشم یاس میں ایک ایک رنگ گل
by جگر مراد آبادی

کانٹا تھا چشم یاس میں ایک ایک رنگ گل
میرے لیے چمن بھی بیاباں نکل گیا

دست جنوں کا ضعف سے اٹھنا محال تھا
کیا جانے کس طرح سے گریباں نکل گیا

دل میں تو آگ ہی وہی اب تک لگی ہوئی
مانا کہ چشم شوق کا ارماں نکل گیا

جوش جنوں سے کچھ نہ چلی ضبط عشق کی
سو سو جگہ سے آج گریباں نکل گیا

This work is now in the public domain because it originates from India and its term of copyright has expired. According to The Indian Copyright Act, 1957, all documents enter the public domain after sixty years counted from the beginning of the following calendar year (ie. as of 2024, prior to 1 January 1964) after the death of the author.

Public domainPublic domainfalsefalse