لرزتا ہے مرا دل زحمت مہر درخشاں پر

From Wikisource
Jump to navigation Jump to search
لرزتا ہے مرا دل زحمت مہر درخشاں پر
by مرزا غالب

لرزتا ہے مرا دل زحمتِ مہرِ درخشاں پر
میں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خارِ بیاباں پر

نہ چھوڑی حضرتِ یوسف نے یاں بھی خانہ آرائی
سفیدی دیدۂ یعقوب کی پھرتی ہے زنداں پر

فنا “تعلیمِ درسِ بے خودی” ہوں اُس زمانے سے
کہ مجنوں لام الف لکھتا تھا دیوارِ دبستاں پر

فراغت کس قدر رہتی مجھے تشویش مرہم سے
بہم گر صلح کرتے پارہ ہائے دل نمک داں پر

نہیں اقلیم الفت میں کوئی طومارِ ناز ایسا
کہ پشتِ چشم سے جس کی نہ ہووے مُہر عنواں پر

مجھے اب دیکھ کر ابرِ شفق آلودہ یاد آیا
کہ فرقت میں تری آتش برستی تھی گلِستاں پر

دلِ خونیں جگر بے صبر و فیضِ عشق مستغنی
الٰہی! یک قیامتِ خاور آ ٹوٹے بدخشاں ہر

بجُز پروازِ شوقِ ناز کیا باقی رہا ہو گا
قیامت اِک ہوائے تند ہے خاکِ شہیداں پر

نہ لڑ ناصح سے، غالبؔ، کیا ہوا گر اس نے شدّت کی
ہمارا بھی تو آخر زور چلتا ہے گریباں پر


This work was published before January 1, 1928, and is in the public domain worldwide because the author died at least 100 years ago.