صدقے ترے ہوتے ہیں سورج بھی ستارے بھی

From Wikisource
Jump to navigation Jump to search
صدقے ترے ہوتے ہیں سورج بھی ستارے بھی
by ناطق لکھنوی

صدقے ترے ہوتے ہیں سورج بھی ستارے بھی
ہم کس سے کہیں دل ہے سینے میں ہمارے بھی

تا صبح گرے آنسو اور آنکھ نہیں جھپکی
اس بات کے شاہد ہیں ڈوبے ہوئے تارے بھی

دل کھو کے ملا ہم کو جو کچھ وہ بہت کچھ ہے
اس عشق کی بازی میں ہم جیتے بھی ہارے بھی

جو کچھ تھا مرے دل میں میں نے تو کہا تم سے
اب تم بھی کہو جو کچھ ہے دل میں تمہارے بھی

کیوں بحر محبت میں ہے خوف اجل ناطقؔ
مرنے کو تو مرتے ہیں دریا کے کنارے بھی


This work is now in the public domain because it originates from India and its term of copyright has expired. According to The Indian Copyright Act, 1957, all documents enter the public domain after sixty years counted from the beginning of the following calendar year (ie. as of 2023, prior to 1 January 1963) after the death of the author.