شب مہ میں دیکھ اس کا وہ جھمک جھمک کے چلنا
Appearance
شب مہ میں دیکھ اس کا وہ جھمک جھمک کے چلنا
کیا انتخاب مہ نے یہ چمک چمک کے چلنا
روش ستم میں آنا تو قدم اٹھانا جلدی
جو رہ کرم میں آنا تو ٹھٹک ٹھٹک کے چلنا
نہ دھڑک ہو جو نکلنا تو سر خطر پہ ٹھوکر
جو نظر گزر سے ڈرنا تو جھجک جھجک کے چلنا
جو نوازشوں پہ آنا تو رگڑ کے دوش جانا
جو سر عتاب ہونا تو پھٹک پھٹک کے چلنا
ہے کھبا نظیرؔ اب تو مرے جی میں اس صنم کا
وہ اکڑ کے دھج دکھانا وہ ہمک ہمک کے چلنا
This work was published before January 1, 1929, and is in the public domain worldwide because the author died at least 100 years ago. |