روز خوں ہوتے ہیں دو چار ترے کوچے میں

From Wikisource
Jump to navigation Jump to search
روز خوں ہوتے ہیں دو چار ترے کوچے میں
by مصطفٰی خان شیفتہ

روز خوں ہوتے ہیں دو چار ترے کوچے میں
ایک ہنگامہ ہے اے یار ترے کوچے میں

فرش رہ ہیں جو دل افگار ترے کوچے میں
خاک ہو رونق گلزار ترے کوچے میں

سرفروش آتے ہیں اے یار ترے کوچے میں
گرم ہے موت کا بازار ترے کوچے میں

شعر بس اب نہ کہوں گا کہ کوئی پڑھتا تھا
اپنے حالی مرے اشعار ترے کوچے میں

نہ ملا ہم کو کبھی تیری گلی میں آرام
نہ ہوا ہم پہ جز آزار ترے کوچے میں

ملک الموت کے گھر کا تھا ارادہ اپنا
لے گیا شوق غلط کار ترے کوچے میں

تو ہے اور غیر کے گھر جلوہ طرازی کی ہوس
ہم ہیں اور حسرت دیدار ترے کوچے میں

ہم بھی وارستہ مزاجی کے ہیں اپنی قائل
خلد میں روح تن زار ترے کوچے میں

کیا تجاہل سے یہ کہتا ہے کہاں رہتے ہو
ترے کوچے میں ستم گار ترے کوچے میں

شیفتہؔ ایک نہ آیا تو نہ آیا کیا ہے
روز آ رہتے ہیں دو چار ترے کوچے میں

This work was published before January 1, 1929, and is in the public domain worldwide because the author died at least 100 years ago.

Public domainPublic domainfalsefalse