دوبارہ دل میں کوئی انقلاب ہو نہ سکا

From Wikisource
Jump to navigation Jump to search
دوبارہ دل میں کوئی انقلاب ہو نہ سکا
by ناطق لکھنوی

دوبارہ دل میں کوئی انقلاب ہو نہ سکا
تمہاری پہلی نظر کا جواب ہو نہ سکا

کمال نور زوال حجاب ہو نہ سکا
وہ بے نقاب کبھی بے نقاب ہو نہ سکا

دل تپیدہ ہوا بزم حسن سے واپس
نظر ٹھہر نہ سکی انتخاب ہو نہ سکا

روش بدل گئی تیور ترے نہیں بدلے
قیامت آئی مگر انقلاب ہو نہ سکا

کہاں دل اور کہاں دل کے آئینے کی ادا
غرض سوال سے بہتر جواب ہو نہ سکا

مرے سوال پہ اس نے نظر جو کی نیچی
پھر اس کا مجھ سے جواب الجواب ہو نہ سکا

جلال رعب ہے ناطقؔ جمال پر اس کے
وہ بے نقاب کبھی بے نقاب ہو نہ سکا


This work is now in the public domain because it originates from India and its term of copyright has expired. According to The Indian Copyright Act, 1957, all documents enter the public domain after sixty years counted from the beginning of the following calendar year (ie. as of 2023, prior to 1 January 1963) after the death of the author.