خیال گزرے کہاں کہاں کا ارادہ ان کو ہو گر یہیں کا

From Wikisource
Jump to navigation Jump to search
خیال گزرے کہاں کہاں کا ارادہ ان کو ہو گر یہیں کا
by قربان علی سالک بیگ

خیال گزرے کہاں کہاں کا ارادہ ان کو ہو گر یہیں کا
نہ کچھ ٹھکانا مرے گماں کا نہ کچھ ٹھکانا مرے یقیں کا

نہ شوق مجھ کو ہے حور عیں کا نہ پاس واعظ ہے اپنے دیں کا
جو ذکر کرنا ہے گر یہیں کا سنا نہ جھگڑا کہیں کہیں کا

خراب کوئے بتاں ہے خلقت یہیں سے پاتے ہیں رنج و راحت
سپہر گردش میں کر نہ جرأت کہ دور آیا ہے اب زمیں کا

شہید ہونے کی یہ تمنا نہ دل سے نکلے گی دیکھ لینا
اٹھائے خنجر وہ ہاتھ میں کیا نہ یار سنبھلے جب آستیں کا

ہزار نالے زباں پہ لاتا ہزار محشر ابھی دکھاتا
شب جدائی اگر نہ آتا خیال اس چشم سرمگیں کا

نشان پائے عدو نے مارا کہ تیرے در پر نہیں گوارا
جھکے جو سجدے کو سر ہمارا مٹائیں لکھا ہوا جبیں کا

کہوں مطالب سب اپنے جی کے یہ شرط کیجے کہ ہاں نہ کیجے
کہو نہیں پھر اسی طرح سے مجھے ہے سننا نہیں نہیں کا

جو پوچھے مجھ سا ہے کوئی بد ظن کہو نہ احوال وصل دشمن
یہ میں نے مانا کہ تم ہو پر فن علاج کیا چشم شرمگیں کا

ملے گی محشر میں داد اب کیا ادائے مطلب میں ہوں میں الجھا
بیان پہلے ہی کیوں کیا تھا تمہارے گیسوئے عنبریں کا

بیان لطف عدو جفا ہے یہ تم سے سو بار کہہ دیا ہے
پھر اب کی سن لو نہیں رہا ہے ہمیں بھی ضبط آہ آتشیں کا

عجب ہے سالکؔ بھی رند مشرب کہ چھوڑ بیٹھا ہے ملتیں سب
نہ مانتا ہے کسی کا مذہب نہ ہے یہ پابند اپنے دیں کا

This work was published before January 1, 1929, and is in the public domain worldwide because the author died at least 100 years ago.

Public domainPublic domainfalsefalse