اثر دیکھا دعا جب رات بھر کی (II)

From Wikisource
Jump to navigation Jump to search
اثر دیکھا دعا جب رات بھر کی
by افسر میرٹھی

اثر دیکھا دعا جب رات بھر کی
ضیا کچھ کچھ ہے تاروں میں سحر کی

ہوئے رخصت جہاں سے صبح ہوتے
کہانی ہجر میں یوں مختصر کی

تڑپ اٹھے لحد میں سونے والے
زمیں کی سمت یوں تم نے نظر کی

سحر کو موت کی مانگی دعائیں
دعا مقبول ہوتی ہے سحر کی

یہ بجلی ہے کہ اے ابر شب ہجر
ہے دھجی ایک دامان سحر کی

This work is now in the public domain because it originates from India and its term of copyright has expired. According to The Indian Copyright Act, 1957, all documents enter the public domain after sixty years counted from the beginning of the following calendar year (ie. as of 2024, prior to 1 January 1964) after the death of the author.

Public domainPublic domainfalsefalse