ابتدائے عسق ہے روتا ہے کیا

From Wikisource
Jump to navigation Jump to search

ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا

آگے آگے دیکھِیے ہوتا ہے کیا


قافلے میں صبح کے اِک شور ہے

یعنی غافل ہم چلے سوتا ہے کیا


سبز ہوتی ہی نہیں یے سرزمیں

تخم خواھش دِل میں تُو بوتا ہے کیا


یے نشان عشق ہیں جاتے نہیں

داغ چھاتی کے عبث دھوتا ہے کیا


غیرت یوسف ہے یے وقت عزیز

میر اِس کو رایگاں کھوتا ہے کیا