کیا آج کی رات وہ آئے گی

From Wikisource
Jump to: navigation, search
کیا آج کی رات وہ آئے گی
by سیدتفسیراحمد


کیا آج کی رات وہ آئے گی ۔۔۔۔


میں پچھلے کئی دنوں سے یہاں آرہا ہوں ۔۔۔ دور سورج ایک نارنگی کے رنگ میں بدل چکا ہے۔ لہریں میرے ننگے پیروں سے ٹکرا کر واپس لوٹ رہی ہیں۔ اوپر آسمان پر دو بگلے فضا میں بلند ہیں ۔۔۔ میں سوچتا ہوں کیا وہ اپنا وعدہ نباہے گی ۔۔۔ کیا آج کی رات وہ آئے گی ۔۔۔

خیالات کہیں دور۔۔۔ بہت دور ماضی میں بھٹک جاتے ہیں۔ خیالات کی گہری دھند پرت بہ پرت صاف ہوتی ہے ۔۔۔

ایک ننھی لڑکی اور ایک ننھا لڑکا گیلی ریت میں دوڑتے ہیں۔ میں جیت گی ۔میں جیت گی ۔لڑکی خوشی سے چلاتی ہے۔ ہاں تم جیت گئیں ۔ آج تم جیت گئیں۔ لڑکا خوشی سے چلاتا ہے۔ پھر لڑکی ۔۔۔ لڑکے سے کہتی ہے۔۔۔۔ میں تمہارے ساتھ ہمیشہ کھیلنا چاہتی ہوں۔ بولو نا۔۔۔۔۔ کیا تم میرے ساتھ ہمیشہ کھیلوگے۔ میں ہمیشہ تمہارے ساتھ کھیلوں گا۔ میں وعدہ کرتی ہوں میں ہمیشہ تمہارے ساتھ کھیلوں گی۔ دونوں ، ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر دوڑتے ہیں۔ اور ریت میں گرجاتے ہیں۔ یہ کیا ہے ؟ میں تم سے جیتنا نہیں چاہتی ۔ میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ساتھ چلنا چاہتی ہوں

خیال کا ایک نیا صفحہ کھلتا ہے ۔۔۔ دیکھا نا میں نے کہا تھا نا کے میں بی اے میں فرسٹ ڈیویزن سے پاس ہوں گی۔ باں ۔۔۔۔ تم ہوگئیں۔ لیکن میں نے بھی تو بی ایس سی فرسٹ ڈیویزن میں کیا۔ مجھے پتہ ہم ہمیشہ ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ چلو ساحل سمندر پرچلیں۔ مجھے آج کیوں ڈر لگا رہا ہے۔۔۔ایک دن تم چلے جاؤ گے۔ پگلی اگر میں جان کر بھی تجھے چھوڑنا چاہوں تونہیں چھوڑ سکتا۔ وہ کیوں!!۔۔۔ تو میری زندگی ہے تو میری روح ہے تو میرا دل ہے۔ تو میری آرزو تو میرا ایمان ہے۔۔۔ تو میں ہے اور میں تو۔۔۔ ہاں مگر مجھے ڈر لگتا ہے ۔۔۔ وہ کیوں!! ۔۔۔ تو کمزور ہے ۔۔۔ میری محبت سےذیادہ مضبوط تیرے دوسرے رشتہ ہیں۔تو ایک دن کیسی اور کی ہوجائےگی ۔ اس رات جب چاند نکلتا ہے اور مدوجزر واپس لوٹتا ہے ۔۔۔۔ لہریں ہمارے ننگے پیروں کو نہیں چھوتیں۔

وہ بھی اسی طرح کی ایک رات تھی ۔ اسی جگہ ایک حسین چہرہ بے نقاب ہوتا ہے۔ ان روتی ہوئی آنکھوں میں چاند کا عکس ابھرتا ہے۔ اس کےگالوں پر آنسوؤں کی ایک لڑی بن جاتی ہے ۔ “ میں تمہیں یہ شہر چھوڑ کر نہیں جانے دوں گی “ ۔ مگر اب شہر میں ، میرے لیے کیا رکھا ہے۔؟ تم میری نہیں ہو پرائی ہو۔۔۔ میں تمہارا نہیں ہوں اب ایک اجنبی ہوں۔۔۔ آنسو ٹپک ٹپک کر ریت میں گرتے ہیں اور ان کےگرنے سے ایک جوہڑ بند جاتا ہے ۔۔۔ لہریں دوڑ کر اس جوہڑ کو اپنے میں سما لیتی ہیں۔ سمندر اور جوہڑ کی طرح ہم ایک ہوجاتے ہیں۔ مجھ سے وعدہ کرو تم ایک دن واپس آؤ گے ۔۔۔ ہمارے راستے اب مختلف ہیں تم کسی اور کی ہو ۔۔۔ ہمارے راستہ محتلف ہیں۔ مگر ہماری جان اور دل تو ایک ہیں نا۔۔۔ بولو ہیں نا۔۔۔ ہاں مگر تم کیسی اور کی ہو اور میں کوئی اور اجنبی۔۔۔۔ جاؤ ۔۔۔اگر تم کو جانا ہے ۔۔۔ میں تم کو نہیں روکوں گی ۔۔۔ مگر جب بھی چاند نکلےگا اور جب بھی مدوجزر واپس لوٹےگا ۔۔۔میں اس ساحل پر آؤں گی۔ ہاں ہمیشہ آؤں گی ۔۔۔بولونا ایک دن تم آؤگے۔۔۔ بولونا باں ۔

خیال کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے ۔۔۔

پندرہ سال بیت گے۔۔۔۔ آج بھی اس رات کی طرح ، دور سورج ایک نارنگی کے رنگ میں بدل چکا ہے۔ لہریں میرے ننگے پیروں سے ٹکرا کر واپس لوٹ رہی ہیں۔ اوپر آسمان پر دو بگلے فضا میں بلند ہیں۔ میں سوچتا ہوں کیا وہ اپنا وعدہ نبائے گی۔۔۔۔ کیا آج بھی وہ میرے ساتھ ساتھ اس ساحل سمندر پر چلے گی۔۔۔۔ کیا اب بھی وہ ساتھ کھیلے گی۔ اس نے کہا تھا کہ “ جب بھی چاند نکلےگا اور جب بھی مدوجزر واپس لوٹےگا ۔۔۔میں اس ساحل پر آؤں گی۔ ہاں ہمیشہ آؤں گی ۔۔۔بولونا ایک دن تم آؤگے۔۔۔ بولونا“۔۔۔ میں لوٹ آیا۔ کیا آج کی رات وہ آئے گی ۔۔۔

سورج غروب ہوچکا ہے۔ لوگ جاچکے ہیں۔ میں ساحل سمندر کی ایک بینچ پر بیٹھ جاتا ہوں۔ پانی اب میرے ٹخنوں تک پہونچ چکا ہے۔۔۔۔ سنئے ۔۔۔۔ میں گردن موڑتا ہوں ۔ یہ آپ کی تصویر ہے نا۔ تقریباً پندرہ سال کی لڑکی مجھے غور سے دیکھ رہی ہے۔ یہ لڑکی کیوں جانی پہچانی لگتی ہے! دھندلی تصویر میں ایک شبہیہ اُبھرتی ہے ۔ تصویر صاف ہوجاتی ہے مگر میری آنکھیں نم۔ تو یہ آپ ہیں۔۔۔ لڑکی روتی ہوتے ہوے میرے گلے میں باہیں ڈالتی ہے۔ آپ نے ہمیں بہت انتظار کرایا۔ چلئے وہ سامنے کی بلڈنگ میں ہمارا فلیٹ ہے۔

لڑکی آتشدان کی راکھ کو لکڑی کریدتی ہے۔ میز پر میری تصویر رکھی ہے۔ میں اس کی طرف دیکھتا ہوں۔ "ایک ھفتہ پہلے ماں کا انتقال ہوگیا۔۔۔۔ میں اس ہفتہ دادی کے پاس تھی"۔ وہ روتے ہوئے کہتی ہے۔ میں روتا ہوں ۔۔۔میرا دل روتا ہے۔۔۔ میری روح روتی ہے۔ میرا بدن کانپتا ہے۔ " ہاں ابا ۔۔۔ ماں نے تمہارا آخری وقت تک امتظار کیا"۔

یہ لڑکی پاگل ہے۔ میں اس کا ابا نہیں۔۔۔

"جب ابو کا بانچ سال پہلےانتقال ہوا تو ماں نے سب کچھ بیچ کر یہاں فیلٹ لے لیا" ۔ وہ روتے ہوئے بولی۔

ماں نے ایک دن کہا کہ بیٹی۔ "میں جانتی ہوں کہ تم اپنے ابو سے بہت محبت کرتی تھیں اور میرے دل میں بھی تمہارے ابوکے لیے جگہ ہے۔ لیکن بہت عرصہ پہلے جب میں سات سال کی تھی مجھےایک لڑکا پسند آگیا۔ میری شادی کی رات تک وہ لڑکا اور میں ایک تھے۔ وہ لڑکا میری زندگی تھا، میری روح ، میرا دل ہے ، میری آرزو اور میرا ایمان تھا اور ہمیشہ رہے گا۔ میں وہ ہوں اور وہ میں ۔۔۔ تم میری شادی سے پہلے اس دنیا میں آنے کا سفر شروع کرچکیں تھیں۔ اس کا علم صرف مجھ کو ہے"۔ ماں نے سب کچھ بتادیا۔۔۔ "انہیں پیروں کا گھٹیا تھا۔وہ ہر روز اس بالکونی میں بیٹھ کر آپ کا انتظار کرتی تھیں۔ اور میں ساحل سمندر ہر آپ کو ڈھونڈتی تھی۔ ماں نے کہا اگر میں مر بھی جاؤں تو ہمت نا ہارنا۔۔۔" تیرے ابانےمجھ سے وعدہ کیا ہے تو ضرور آئے گا"۔۔۔ میں نے روتے ہوئے آگے بڑھ کر میری بیٹی کوگلے سے لگایا۔ دل نے کہا۔۔۔۔تیری بیٹی تیری جان ہے۔۔۔ اور وہ ۔۔۔ وہ جیسےتو بُھلا نہ سکا اب تیری روح ہے ۔۔۔۔ میں نے کہا ۔" اے دل۔۔آج میں کتنا خوش ہوں تو، اور میری یہ جان اور اُس کی روح ایک ہوگے"۔۔۔