This page has been proofread.
وشوا متر اُس زمانہ کے بہت بڑے تپستوی تھے ۔ وہ چھتری ہو کر بھی محض اپنی عبادت کے زور سے برہم ریشی کے درجہ پر پہنچ گئے تھے ۔ سبھی ریشی اُن کے سامنے تعظیم سے سر جھکاتے تھے ۔ مگر گیانی ہونے پر بھی وہ کسی قدر غصّہ ور تھے۔ کسی نے اُن کی مرضی کے خلاف کام کیا اور اُنہوں نے بد دعا دی ۔ اس سے سبھی راجے مہاراجے اُن سے ڈرتے تھے ۔ کیونکہ اُن کی بد دُعا کو کوئی رد نہ کر سکتا تھا۔ لڑائی کے ہنر میں بھی وہ یگانہ روزگار تھے ۔ راجہ دشرتھ نے تخت سے اتر کر اُن کی تعظیم کی اور اُنہیں اپنے سنگھاسن پر بٹھا کر بولے ۔ آج غریب خانہ کو اپنے قدموں سے پاک کر کے آپ نے مجھ پر بڑا احسان کیا ۔ میرے لائق اگر کوئی خدمت ہو تو فرمائیے ۔ یہ سر و چشم بجا لاؤں