Jump to content

Page:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/91

From Wikisource
This page has been proofread.
(٨٩)
پہلے درویش کی سیر

سر پر رکھئے اور اُس کا بدلا نہ کیجیے.اب تُو بھی جا کر اُسکی اِستدعا کر اور اپنے ساتھ ہی ساتھ لے آ. جب تُو اُس کے گھر گیا تب مین نے دیکھا کہ یہان کچھ اسباب مہمان داری کا تیّار نہین اگر وہ آ جاوے تو کیا کرون؟ لیکن یہ فرصت پائی کہ اِس ملک مین قدیم سے پادشاہون کا یہ معمُول ہے۔آٹھ مہینے کاروبار مُلکی اور مالی کے واسطے ملک گیری مین باہر رہتے ہین اور چار مہینے موسم برسات کے قلعۂ مبارک مین جلوس فرماتے ہین.اُن دنون دو چار مہینے سے پادشاہ یعی ولی نعمت مجھ بدبخت کے بندوبست کی خاطر ملک مین تشریف لے گئے تھے.

جب تک تو اُس جوان کو ساتھ لے کر آوے کہ سیدی بہار نے میرا احوال خدمت مین پادشاہ بیگم کی (کہ والدہ مجھ ناپاک کی ہین) عرض کیا. پھر مین اپنی تقصیر اور گُناہ سے خجل ہو کر اُن کے رُو برو جا کر کھڑی ہوئی اور جو سرگزشت تھی سب بیان کی. ہر چند اُنہون نے میرے غائب ہونے کی کیفیت دُور اندیشی اور مہر مادری سے چُھپا

(١٢)