Jump to content

Page:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/86

From Wikisource
This page has been proofread.
(٨٤)
پہلے درویش کی سیر

کیا کہ اِس احمق نے بڑی خواہش سے اِس کو لیا ہے۔ شاید اِسکا دل اوس پر مائل ہے٠اسی خاطر سے پیچتاب کھا کر مین چُپکی ہو رہی۔ لیکن دل اُسی وقت سے مکدّر ہوا اور نا خوشی مزاج پر چھا گئی۔تسپر قیامت اُس ایسے تیسے نے یہ کی۔ کہ ساقی اُسی رنڈی کو بنایا٠اُس وقت مین اپنا لہُو پیتی تھی۔ اور جیسے طوطی کو کوئی کوّ ے کے ساتھ ایک پنجرے مین بند کرتا ہے۔ نہ جانے کی فرصت پاتی تھی اور نہ بیٹھنے کو جی چاہتا تھا٠ قصہ مختصر وہ شراب بوند کی بوند تھی جسکے پینے سے آدمی حیوان ہو جاوے٠ دو چار جام پے در پے اُسی تیزاب کے جوان کو دیے۔اور آدھا پیالہ جوان کی منت سے مین نے بھی زہرمار کیا۔آخر وہ پلشت بیحیا بھی بدمست ہو کر اُس مردود سے بے ہُودہ ادائین کرنے لگی۔اور وہ چبلا بھی نشے مین بے لحاظ ہو چلا اور نامعقول حرکتین کرنے لگا٠

مجھے یہ غیرت آئی اگر اُس وقت زمین پھٹے تو مین سما جاؤن۔ لیکن اسکی دوستی کے باعث مین بللّی اس پر بھی چُپ ہو رہی٠ پر وہ تو اصل کا پاجی تھا۔