Jump to content

Page:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/81

From Wikisource
This page has been proofread.
(٧٩)
پہلے درویش کی سیر

پُوچھا کہ آج رکاوٹ اور خفگی کا کیا باعث ہے؟ اِتنی شوخی اور گُستاخی تُو نے کبھو نکی تھی۔ ہمیشہ بلا عذر حاضر ہوتا تھا٠ تب اُس نے کہا کہ مین گُمنام غریب حضور کی توجہ اور دامنِ دولت کے باعث اِس مقدور کو پہنچا۔ بہت آرام سے زندگی کٹتی ہے٠ آپ کی جان و مال کو دُعا کرتا ہون۔ یہ تقصیر پادشاہزادی کے معاف کرنے کے بھروسے اِس گنہگار سے سرزد ہوئی۔ امیدوار عفو کا ہون٠ مین تو جان و دل سے اُسے چاہتی تھی۔اُس کی بناوٹ کی باتون کو مان لیا اور شرارت پر نظر نکی٠ بلکہ پھر دل داری سے پوچھا کہ کیا تجھکو ایسی مُشکل کٹھن پیش آئی ہے جو ایسا متفکر ہو رہا ہے؟ اسکو عرض کر۔ اُسکی بھی تدبیر ہو جائگی\جایگی٠

غرض اُس نے اپنی خاکساری کی راہ سے یہی کہا۔ کہ مجھ کو سب مُشکل ہے اور آپ کے روبرو سب ہی آسان ہے٠ آخر اُسکے فحواۓ کلام اور بت کہاؤے سے یہ کھُلا۔ کہ ایک باغ نہایت سرسبز اور عمارت عالی حوض تالاب کوئے پختہ سمیت غلام کی حویلی کے نزدیک نافِ شہر