غرض بہت سی تاکید کر کر کہنے لگی۔کہ مین بدبخت ملک دمشق کے سلطان کی بیٹی ہون اور وہ سلاطینون سے بڑا پادشاہ ہے٠ سوائے میرے کوئی لڑکا بالا اُس کے یہان نہین ہوا٠ جس دن سے مین پیدا ہوئی ما باپ کے سائے مین ناز و نعمت اور خوشی و خرمی سے پلی٠ جب ہوش آیا تب اپنے دل کو خوبصورتون اور نازنینون کے ساتھ لگایا۔ چنانچہ سُتھری سُتھری پری زاد ہمجولی اُمرازادیان مصاحبت مین۔ اور اچھی اچھی قبول صورت ہم عمر خواصین سہیلیان خدمت مین رہتی تھین٠ تماشا ناچ اور راگ رنگ کا ہمیشہ دیکھا کرتی۔ دنیا کے بھلے بُرے سے کچھ سروکار نہ تھا۔اپنی بے فکری کے عالم کو دیکھ کر سوائے خدا کے شکر کے کچھ منہ سے نہ نکلتا تھا٠اتفاقاً طبیعت خود بخود ایسی بے مزہ ہوئی کہ نہ مصاحبت کسو کی بھاوے۔ نہ مجلس خوشی کی خوش آوے٠ سودائی سا مزاج ہو گیا۔دل اُداس اور حیران۔ نہ کسو کی صورت اچھی لگے نہ بات کہنے سننے کو جی چاہے٠ میری یہ حالت دیکھ کر دائی ددا چھو چھوانگا
Page:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/73
Appearance