Jump to content

Page:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/67

From Wikisource
This page has been proofread.
(٦٥)
پہلے درویش کی سیر

فرمایا کہ تیری جان تجھے بخشی٠ خوجا بولا۔ آپ کی ذات قدردان ہے۔ واسطے خدا کے چِلون کو درمیان سے اُٹھا کر پہچانیے اور اِس کی بے کسی کی حالت پر رحم کیجیئے۔ ناحق شناسی خوب نہین۔اب اِس کے احوال پر جو کچھ ترس کھائیے بجا ہے اور جائے ثواب ہے۔آگے حدِ ادب۔ جو مزاج مبارک مین آوے سو ہی بہتر ہے٠

اتنے کہنے پر مُسکرا کر فرمایا۔ بھلا۔ کوئی ہو اِسے دار الشِفّا مین رکھو۔ جب بھلا چنگا ہوگا تب اُس کے احوال کی پرسش کی جائیگی٠ خوجے نے کہا اگر اپنے دستِ خاص سے گلاب اِس پر چھڑکیے اور زبان سے کچھ فرمائیے تو اِس کو اپنے جینے کا بھروسا بندھے۔ ناامیدی بُری چیز ہے۔ دنیا بہ امید قائم ہے٠اس پر بھی اُس پری نے کچھ نہ کہا٠ یہ سوال جواب سنکر مین بھی اپنے جی سے اُکتا رہا تھا۔ ندھڑک بول اٹھا کہ اب اِس طور کی زندگی کو دل نہین چاہتا٠ پانو تو گور مین لٹکا چکا ہون۔ایک روز مرنا ہے اور علاج میرا بادشاہ زادی کے ہاتھ مین ہے۔ کرین یا نہ کرین وہ جانین٠ بارے مقّلب القُلُوب نے اُس

(٩)