ہوا!اے بے وقوف!اپنے حوصلے سے زیادہ باتین بنانین خیالِ خام ہے۔ چھوٹا منہ بڑی بات٠بس چپ رہ۔ یہ نکمی بات چیت مت کر۔اگر کسی اور نے یہ حرکتِ بے معنی کی ہوتی پروردگار کی سون اُس کی بوٹیان کٹوا چیلون کو بانٹتی۔ پر کیا کروں؟ تیری خدمت یاد آتی ہے٠اب اِسی مین بھلائی ہے کہ اپنی راہ لے۔ تیری قسمت کا دانا پانی ہماری سرکار مین یہین تلک تھا۔ پھر مین نے روتے بسورتے کہا۔ اگر میری تقدیر مین یہی لکھا ہے کہ اپنے دل کے مقصد کو نہ پہنچون اور جنگل پہاڑ مین سر ٹکراتا پھرون تو لاچار ہون٠اس بات سے بھی دِق ہو کہنے لگی۔ میرے تئین یہ پُھساہندے چوچلے اور رمز کی باتین پسند نہین آتین۔ اِس اشارے کی گفتگو کی جو لائق ہو اُس سے جا کر کر۔ پھر اُسی خفگی کے عالم مین اُٹھ کر اپنے دولت خانے کو چلی۔ مین نے بہتیرا سر پٹکا۔ متوّجہ نہ ہوئی٠ لاچار مین بھی اُس مکان سے اُداس اور نااُمید ہو کر نکلا۔غرض چالیس دن تک یہی نوبت رہی٠ جب شہر کی کوچہ گردی سے اُکتاتا جنگل مین نکل جاتا۔ جب وہان سے
Page:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/64
Appearance