اور کیا ماجرا ہے؟ اگر بیان کرو تو میرے دل کو تسلی ہو • یہ سنکر اگرچہ طاقت بولنے کی نہ تھی آہستے سے کہا شکر ہے٠ میری حالت زخموں کے مارے یہ کچھ ہو رہی ہے٠کیا خاک بولون؟ کوئی دم کی مہمان ہون- جب میری جان نکل جاوے تو خدا کے واسطے جوانمردي کر کے مجھہ بد بخت کو اسی صندوق مین کسی جگہ گاڑ دیجیو- تو مین بھلے برے کی زبان سے نجات پاؤن-اور تو داخل ثواب کے ہو. اتنا بول کر چُپ ہوئي•
رات کو مجھ سے کچھ تدبیر نہ ہو سکی۔وح صندوق اپنے پاس اُٹھا لایا اور گھڑیان گننے لگا کہ کب اتنی رات تمام ہو تو فجر کو شہر مین جا کر جو کچھ علاج اُسکا ہو سکے بہ مقدور اپنے کرون• وہ تھوڑی سی رات ایسی پھاڑ ہو گئی کہ دل گھبڑا گیا• بارے خدا خدا کر صبح جب نزدیک ہوئی مُرغ بولا- آدمیون کی آواز آنے لگی• مین نے فجر کی نماز پڑھ کر صندوق کو خورجین مین کسا• جونہین دروازہ شہر کا کھلا مین شهر مین داخل ہوا• ہر ایک آدمی اور دوکاندار سے حویلی کرائے کی