This page has been proofread.
(۶۸)
پہلے درویش کی سبر
سیر پہلے درویش کي
پہلا درویش دو زانو ہو بیٹھا اور اپنی سیر کا قصہ اس طرح سے کہنے لگا• یا معبود\معبو الله ! زرہ ادھر متوجہ ہو۔اور ماجرا اس بے سر و پا کا سنو•
یہ سر گزشت میری ذرا کان دھر سُنو!
مجھ کو فلک نے کر دیا زیر و زبر سُنو!
جو کچھ کہ پیش آئی ہے شدت مری تئین
اُس کا بیان کرتا ہون تم سر بہ سر سُنو!
ای یاران! میری پیدائش اور وطن بزرگون کا مُلک یمن ہے.والد اِس عاجز کا مِلک التجار خواجہ احمد نام بڑا سوداگر تها. اُس وقت مین کوئی مہاجن بیپارے اُنکے برابر نه تها.اکثر شہرون مین کوٹھیاں اور گماشتے خرید و فروخت کے واسطے مقرر تھے۔اور لاکھون روپٹہ نقد اور جنس ملک ملک کی گھر مین موجود تھی٠ اُن کے یہان دو لڑکے پیدا ہوئے۔ ایک تو یہی فقیر جو کمنی سیلی پہنے ہوئے مرشدون کی حضوری مین حاضر اور بولنا