This page has been proofread.
(۲۷)
قصے کا شروع
اپنے اپنے بسترون پر حقّے بھر کر پینے لگے٠ایک اُن آزادون مین سے بولا اے یارانِ ہمدرد و رفیقانِ جہان گرد! ہم چار صورتین آسمان کی گردش سے اور لیل و نہار کے انقلاب سے در بدر خاک بسر ایک مدّت پھرین٠الحمد لله کہ طالع کی مدد اور قسمت کی یاوری سے آج اس مقام پر باہم ملاقات ہوئی٠ اور کل کا احوال کچھ معلوم نہین کہ کیا پیش آوے، ایک گت\گمت رہین یا جدا جدا ہو جاوین٠ رات بڑی پہاڑ ہوتی ہے، ابھی سے پڑ پڑ رہنا خوب نہین۔ اس سے یہ بہتر ہے کہ اپنی اپنی سر گزشت جو اس دنیا مین جس پر بیتی ہو (بشرطیکہ جھوٹ اُس مین کوڑی بھر نہ ہو) بیان کرے، تو باتون مین رات کٹ جائے٠ جب تھوڑی شب باقی رہے تب لوٹ پوٹ رہین گے٠ سبھون نے کہا یا ہادی! جو کچھ ارشاد ہوتا ہے۔ ہم نے قبول کیا٠ پہلے آپ ہی اپنا احوال جو دیکھا ہے شروع کیجیے تو ہم مستفید ہون٠