سے ہمیشہ بادشاہت میسر ہے۔ لیکن جہان پناہ کی یک بیک اِس طرح کی گوشہ گیری سے تمام ملک مین تہلکہ پڑ گیا ہے اور انجام اِس کا اچھا نہین۔ یہ کیا خیال مزاج مبارک مین آیا؟ اگر اِس خانہ زاد موروثی کو بھی محرم اِس راز کا کیجیے تو بہتر ہے۔ جو کچھ عقلِ ناقص مین آوے التماس کرے٠ غلامون کو جو یہ سرفرزیان بخشی ہین۔ اِسی دن کے واسطے کہ بادشاہ عیش و آرام کرین اور نمک پرور دے تدبیر مین ملک کی رہین٠ خدا نخواستہ جب فکر مزاج عالی کے لاحق ہوئی تو بندہائے پادشاہی کس دن کام آوینگے؟ بادشاہ نے کہا سچ کہتا ہے۔ پر جو فکر میرے جی کے اندر ہے سو تدبیر سے باہر ہے٠
سُن اے خردمند میری ساری عمر اِسی ملک گیری کے دردِ سر مین کٹی اب یہ سِن و سال ہوا۔ آگے موت باقی ہے سو اِس کا بھی پیغام آیا۔ کہ سیاہ بال سفید ہو چلے٠ وہ مثل ہے۔ ساری رات سوئے اب صبح کو بھی نہ جاگین؟ اب تک ایک بیٹا پیدا نہ ہوا جو میری خاطر
(٣)