Jump to content

Page:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/17

From Wikisource
This page has been proofread.
(١٥)
قصے کا شروع

مُلک دبا لیااور سر انجام سر کشی کا کیا٠ جہان کہین حاکم تھے اُنکی حکم مین خلل عظیم واقع ہوا٠ ہر ایک صوبے سے ارضی بد عملی کی حضور مین پہنچی٠ درباری اُمراء جتنے تھے جمع ہوئے اور اصلاح مصلحت کرنے لگے٠

آخر یہ تجویز ٹھہری کہ نواب وزیر عاقل اور دانا ہے٠ اور بادشاہ کا مقرب اور معتمد ہے اور درجے مین بھی سب سے بڑا ہے اُس کی خدمت مین چلین۔ دیکھین کہ وہ کیا مناسب جان کر کہتا ہے۔ سب عمدہ امیر وزیر کے پاس آئے اور کہا۔ بادشاہ کی یہ صورت اور ملک کی وہ حقیقت۔اگر چندے تغافل ہوا تو اس محنت کا ملک لیا ہوا مفت مین جاتا رہے گا۔ پھر ہتھے آنا مشکل ہے۔ وزیر پرانا قدیم نمک حلال اور عقلمند نام بھی خرد مند اسم با مسمّیٰ تھا۔ بولا اگر چہ بادشاہ نے حضور مین آنے کو منع کیا ہے۔ لیکن تم چلو مین بھی چلتا ہون۔خدا کرے بادشاہ کے مرضی مین آوے جو روبرو بلاوے۔ یہ کہہ کر سب کو اپنے ساتھ دیوان عام تک لایا۔ ان کو وہان چھوڑ کر آپ دیوان