مین دن عید اور رات شبِ برات تھی٠ اور جتنے چور چکار۔ جیب کترے صبح خیزے۔اُتھائی گیرے۔ دغاباز تھے سب کو نیست و نابود کر کر نام و نشان اُنکا اپنے ملک بھر مین نہ رکھا تھا۔ ساری رات دروازے گھرونکے بند نہ ہوتے اور دکانین بازار کی کھلی رہتین٠ راہی مسافر جنگل میدان مین سونا اچھالتے چلے جاتے کوئی نہ پوچھتا کہ تمھارے منہ مین کئے\کتنے دانت ہین۔اور کہان جاتے ہو٠ اِس بادشاہ کے عمل مین ہزارون شہر تھے۔ اور کئی سلطان نعل بندی دیتے۔ ایسی بڑی سلطنت پر ایک ساعت اپنے دل کو خدا کی یاد بندگی سے غافل نہ کرتا۔ آرام دنیا کا جو چاہے سب موجود تھا۔ لیکن ایک فرزند کی زندگانی کاپھل ہی اُسکی قسمت کے باغ میں نہ تھا٠ اِس خاطر اکثر فکرمند رہتا. اور پانچوں وقت کی نماز کے بعد اپنے کریم سے کہتا-ای اللہ مجھ عاجز کو یونے اپنی عنایت سے سب کچھ دیا لیکن ایک اس اندھیرے گھر کا دیا نہ دیا. یحی ارمان جی مین باقی ہے کی میرا نام لیوا اور پانی دیوا کوئی نہین-اور تیرے خزانہء
Page:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/14
Appearance