Jump to content

Page:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/138

From Wikisource
This page has been proofread.
(۱٣٦)
دوسرے درویس کی سیر

غرض اُس میانے مین بیٹھی ہوئی خدا سے لولگائے رہین تھین۔ اور یہ کبت اُسدم پڑھتی تھین.

جب دانت نہ تھے تب دودھ دیو۔ جب دانت دیے کیا ان نہ دی ہے؟

جو جل مین تھل مین پنچھی پسو کی سدھ لیت۔ سو میری بھی لی ہے.

کاہے کو سوچ کرے مین مورکھ! سوچ کرے کچھ ہاتھ نہ آئی ہے.

جان کو دیت۔ اجان کو دیت۔ جہان کو دیت۔ سو تو کو بھی دی ہے.

سچ ہے جب کچھ بن نہین آتا تب خدا ہی یاد آتا ہے. نہین تو اپنی تدبیر مین ہر ایک لقمان اور بو علی سینا ہے. اب خدا کے کارخانے کا تماشا سنو. اِسی طرح تین دن رات صاف گزر گئے کہ ملکہ کے مُنہ مین ایک کھیل بھی اُڑ کر نہ گئ۔ وہ پھول سا بدن سوکھ کر کانٹا ہو گیا۔ اور وہ رنگ جو کندن سا دمکتا تھا۔ ہلدی سا بن گیا۔ مُنہ مین پھیپڑی بندھ گئی۔ آنکھین پتھرا گئین۔