This page has been proofread.
(١١)
قصے کا شروع
پانچ پُثتےن اُسی شہر مین گزارین۔ اور اُس نے دربار امراؤن کے اور میلے ٹھیلے عرس چھڑیان سیر تماشا اور کوچہ گردی اُس شہر کی مدت تلک کی ہوگی اور وہان سے نکلنے کے بعد اپنی اپنی زبان کو لحاظ مین رکھا ہوگا۔ اُسکا بولنا البتہ ٹھیک ہے٠ یہ عاجز بھی ہر ایک شہر کی سیر کرتا اور تماشا دیکھتا یہان تلک پہنچا ہے.
شروع قضے کا
اب آغاز قصّہ کا کرتا ہون ذرا کان دھر کر سنو اور منصفی کرو. سیر مین چار درویش کے یون لکھا ہے اور کہنے والے نے کہا ہے کہ آگے روم کے ملک مین ایک شہنشاہ تھا کہ نوشیروان کی سی عدالت اور حاتم کی سی سخاوت اُسکی ذات مین تھی. نام اُسکا آزاد بخت تھا -اور شہر قسطنطنیہ (جس کو استنبول کہتے ہین) اس کا پاۓ تخت تھا. اُس کے وقت مین رعیت آباد۔ خزانہ معمور۔لشکر مرفّہ۔غریب غربا آسودہ۔ ایسے چین سے گزران کرتے اور خوشی سے رہتے کہ ہر ایک کے گھر