کرنے کی خاطر دو دلی ہو رہی ہے. لہٰذا مہر اپنا یہی مقرر کیا ہے۔ کہ جو شخص اُس عجوبے کی کماحقہ خبر لاوے۔ اُسکو پسند فرماوے اور وہی مالک سارے مال ملک اور ملکہ کا ہووے.
یہ ماجرا تم نے سنا. اپنے دل مین غور کرو۔ اگر تم اُس جوان کی خبر لا سکو تو قصد ملک نیمروز کا کرو اور جلد روانہ ہو۔ نہین تو اِنکار کر کر اپنے گھر کی راہ لو. مین نے جواب دیا کہ اگر خدا چاہے تو جلد اُس کا احوال سر سے پاؤن تک دریافت کر کر پادشاہزادی کے پاس آ پہنچتا ہون اور کامیاب ہوتا ہون۔ اور جو میری قسمت بد ہے تو اُسکا کچھ علاج نہین۔ لیکن ملکہ اِسکا قول و قرار کرین کہ اپنے کہنے سے نہ پھرین. اور بالفعل ایک اندیشہ مشکل میرے دل مین خلش کر رہا ہے۔ اگر ملکہ غریب نوازی اور مسافر پروری سے حضور مین بلاوین اور پردے کے باہر بٹھلا وین اور میرا التماس اپنے کانون سنین اور اُسکا جواب اپنی زبان سے فرما وین۔ تو میری خاطر جمع ہو اور مجھ سے سب کچھ ہو سکے. یہ