اِس فقیری مین اپنے تئین پادشاہ سمجھنا اور اُسکا غرور کرنا نپٹ بیجا ہے۔ اِس واسطے کہ سب آدمی آپس مین فی الحقیقت ایک ہین۔ لیکن فضیلت دین اسلام کی البتہ ہے. اور مین بھی ایک مُدّت سے شادی کر نیکی آرزومند ہون۔ اور جیسے تم دولت دنیا سے بے پروا ہو۔ میرے تئین بھی حق تعالیٰ نے اتنا مال دیا ہے کہ جسکا کچھ حساب نہین. پر ایک شرط ہے کہ پہلے مہر ادا کر لو۔ اور مہر شاہزادی کا ایک بات ہے جو تمسے ہو سکے. مین نے کہا۔ مین سب طرح حاضر ہون۔ جان و مال سے دریغ نہین کرنے کا۔ وہ بات کیا ہے؟ کہو تو مین سنون. تب اُسنے کہا آج کے دن رہ جاؤ۔ کل تمہین کہہ دونگی. مین نے خوشی سے قبول کیا اور رخصت ہو کر باہر آ یا.
دن گزرا۔ جب شام ہوئی مجھے ایک خواجہ سرا محل مین بالا کر لیگیا. جا کر دیکھا تو اکابر عالم فاضل صاحب شرع حاضر ہین۔ مین بھی اُسی جلسے میں جا کر بیٹھا کہ اِتنے مین دسترخوان بچھایا گیا۔ اور کھانے اقسام اقسام کے