قیافے سے ظاہر تھی) میرے پاس آیا اور نپٹ شیرین زبانی سے کہنے لگا۔کہ مین فقیرون کا خادم ہون۔ہمیشہ اِسکی تلاش مین رہتا ہون۔کہ جو کوئی مسافر فقیر یا دنیا دار اس شہر میں آوے۔میرے گھر مین قدم رنجہ فرماوے۔سواے ایک مکان کے یہان اور بدیسی کے رہنے کی جگہ نہین ہے.آپ تشریف لے چلئے اور اُس مقام کو زینت بخشئے اور مجھے سرفراز کیجئے. فقیر نے پوچھا۔صاحب کا اسمِ شریف کیا ہے؟بولا اِس گمنام کا نام بیدار بخت کہتے ہین۔اُسکی خوبی اور تملق دیکھکر یہ عاجز اُسکے ساتھ چلا۔اور اُسکے مکان مین گیا.دیکھا ایک عمارت عالی شان لوازم شاہانہ سے تیار ہے.ایک دالان مین اُسنے لیجا کر بٹھایا اور گرم پانی منگوا کر ہاتھ پاؤن دھلوائے۔اور دستر خوان بچھوا کر مجھ تن تنہا کے روبرو بکاول نے ایک تورے کا تورا چن دیا.چار مشقاب\مشتھاب۔ ایک مین یخنی پلاؤ۔دوسرے مین قورما پلاؤ۔تیسرے مین متنجن پلاؤ۔اور چوتھے میں کوکو پلاؤ۔اور ایک قاب زردے کی اور کئی طرح کے قلیئے۔
Page:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/115
Appearance