Jump to content

Page:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/114

From Wikisource
This page has been proofread.
(١١٢)
دوسرے درویش کی سیر

امیرون سے(جو پاے تختِ سلطنت کے اور ارکان مملکت کے تھے) مشورت کی کہ سفر بصرے کا کیا چاہتا ہون۔ تم اپنے کام میں مستعد رہو. اگر زندگی ہے تو سفر کی عمر کوتاہ ہوتی ہے۔ جلد پھر آتا ہون. کوئی میرے جانے پر راضی نہوا. لاچار دل تو اداس ہو رہا تھا۔ ایک دن بغیر سبکے کہے سنے چپکے وزیرِ باتدبیر کو بلا کر مختار اور وکیل مطلق اپنا کیا۔اور سلطنت کا مدار المہام بنایا. پھر مین نے گیروا بستر پہن فقیری بھیس کر۔اکیلے راہ بصرے کی لی. تھوڑے دنون مین اُسکی سرحد مین جا پہنچا. تب سے یہ تماشا دیکھنے لگا۔ کہ جہان راتکو جا کر مقام کرتا نوکر چاکر اسی ملکہ کے استقبال کر کر ایک مکان معقول مین اتارتے۔اور جتنا لوازمہ ضیافت کا ہوتا ہے بخوبی موجود کرتے۔اور خدمت مین دست بستہ تمام رات حاضر رہتے. دوسرے دن دوسری منزل مین یہی صورت پیش آتی. اِسی آرام سے مہینون کی راہ طے کی۔ آخر بصرے میں داخل ہوا. وونہین ایک جوان شکیل۔ خوش۔ لباس۔ نیک خُو صاحب مروت۔ (دانائی اسکے