This page has been proofread.
(١١١)
دوسرے درویش کی سیر
خوف الٰہی۔اور(ی)سے یاد رکھنا اپنی پیدائش اور مرنے کو. جب تلک اِتنا نہو لے تو سخاوت کا نام نہ لے۔اور سخی کا یہ درجہ ہے کہ اگر بدکار ہو۔تو بھی دوست خدا کا ہے. اِس فقیر نے بہت ملکوںکی سیر کی ہے۔ لیکن سوائے بصرے کی بادشاہ زادی کے کوئی سخی دیکھنے مین نہ آیا. سخاوت کا جاصہ خدا نے اُس عورت پر قطع کیا ہے۔اور سب نام چاہتے ہین پر ویسا کام نہین کرتے. یہ سنکر مین نے بہت منت کی۔اور قسمین دین کہ میری تقصیر معاف کرو اور جو چاہیے سو لو. میرا دیا ہرگز نہ لیا۔اور یہ بات کہتا ہوا چلا۔ اب اگر اپنی ساری بادشاہت مجھے دے تو اِسپر بھی نہ تھوکون.یہ کہتا ہوا وہ تو چلا گیا۔ پر بصرے کی بادشاہزادی کی یہ تعریف سننے سے دل بیکل ہوا۔کسی طرح کل نہ تھی.اب یہ آرزو ہوئی کہ کسی صورت سے بصرے چل اُسکو دیکھا چاہئیے.
اِس عرصے مین بادشاہ نے وفات پائی۔اور تخت پر مین بیٹھا۔سلطنت ملی پر وہ خیال نہ گیا. وزیر اور