Jump to content

Page:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/111

From Wikisource
This page has been proofread.
(١٠٩)
دوسرے درویش کی سیر

فقیر سامنے کے دروازے سے آیا اور سوال کیا.میں نے اُسے ایک اشرفی دی. پھر وہی دوسرے دروازے سے ہو کر آیا۔دو اشرفیان مانگین۔میں نے پہچان کر درگزر کی اور دین.اِسی طرح اُن نے ہر ایک دروازے سے آنا اور ایک ایک اشرفی بڑھانا شروع کیا۔اور مین بھی جان بوجھکر انجان ہوا۔ اور اُسکے سوال کے موافق دیا کیا.آخر چالیسون دروازے کی راہ سے آ کر چالیس اشرفیان مانگین.وہ بھی مین نے دلوا دین.اِتنا کچھ لیکر وہ درویش پھر پہلے دروازے سے گھس آیا اور سوال کیا.مجھے بہت برا معلوم ہوا۔مین نے کہا سن اے لالچی! تو کیسا فقیر ہے کہ ہرگز فقیر کے تینون حرفون سے بھی واقف نہین؟ فقیر کا عمل ان پر چاہیے. فقیر بولا۔ بھلا داتا! تمہین بتاؤ. میں نے کہا(ف) سے فاقہ،(ق) سے قناعت(ر) سے ریاضت نکلتی ہے. جس مین یے تین نہون وہ فقیر نہین۔اِتنا جو تجھے ملا ہے اِسکو کھا پی کر پھر آئیو اور جو مانگیگا لیجائیو.یہ خیرات اِحتیاج رفع کر نیکے واسطے ہے۔نہ جمع کرنیکے لیے۔