غیرت آئی اور یہ خیال گزرا کہ حاتم اپنی قوم کا رئیس تھا۔جن نےایک سخاوت کے باعث یہ نام پیدا کیا کہ آج تلک مشہور ہے.مین خدا کے حکم سے پادشاہ تمام ایران کا ہون۔ اگر اِس نعمت سے محروم رہون تو بڑا افسوس ہے. فی الواقع دنیا مین کوئی کام بڑا داد و دہش سے نہین۔ اِسواسطے کہ آدمی جو کچھ دنیا مین دیتا ہے۔ اُسکو عوض عاقبت مین لیتا ہے.اگر کوئی ایک دانہ بوتا ہے۔تو اُس سے کتنا کچھ پیدا ہوتا ہے! یہ بات دل مین ٹھہرا کر میر عمارت کو بلوا کر حکم کیا کہ ایک مکان عالیشان جسکے چالیس دروازے بلند اور بہت کشادہ ہون باہر شہر کے جلد بنواؤ. تھوڑے عرصے مین ویسی ہی عمارت وسیع جیسا دل چاہتا تھا۔ بنکر تیار ہوئی اور اُس مکان مین ہر روز ہر وقت فجر سے شام تک محتاجون اور بے کسون کے تئین روپے اشرفیان دیتا اور جو کوئی جس چیز کا سوال کرتا مین اُسے مالا مال کرتا. غرض چالیسون دروازے سے حاجت مندآتے۔اور جو چاہتے سو لیجاتے.ایک روز کا یہ ذکر ہے۔کہ ایک
Page:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/110
Appearance