This page has been proofread.
(١٠٧)
دوسرے درویش کی سیر
کہ کوئی گناہ اُسکو نہین پہنچتا. خدا سبکو اس بلا سے محفوظ رکھے۔اور جھوٹھ بولنے کا چسکا نہ دے. بہت آدمی جھوٹھ موٹھ بکے جاتے ہین لیکن آزمائش کے وقت سزا پاتے ہین.
غرض اُن سب کو موافق اُنکے اِنعام دیکر۔ نوفل نے اپنے دل مین خیال کیا کہ حاتم سے شخص سے (کہ ایک عالم کو اُس سے فیض پہنچتا ہے۔اور محتاجوںکی خاطر جان اپنی دریغ نہین کرتا۔اور خدا کی راہ مین سرتاپا حاضر ہے) دشمنی رکھنی اور اُسکا مدعی ہونا مرد آدمیت اور جوانمردی سے بعید ہے. وونہین حاتم کا ہاتھ بڑی دوستی اور گرم جوشی سے پکڑ لیا اور کہا کیون نہو! جب ایسے ہو تب ایسے ہو. تواضع تعظیم کہ کر پاس بٹھلایا اور حاتم کا ملک و املاک اور مال و اسباب جو کچھ ضبط کیا تھا وونہین چھوڑ دیا. نئے سر سے سرداری قبیلہ طے\تی کی اُسے دی۔اور اُس بوڑھے کو پانچ سو اشرفیان اپنے خزانے سے دلوا دین. وہ دعا دیتا ہوا گیا.
جب یہ ماجرا حاتم کا مین نے تمام سنا۔ جی مین