پوچھو تو یہ ہے۔ کہ وہ بوڑھا جو الگ سب سے کھڑا ہے مجھکو لایا ہے.اگر قیافہ پہچا تا جانتے ہو تو دریافت کرو۔اور میرے پکڑنے کی خاطر جو قبول کیا ہے پورا کرو۔ کہ سارے۔ ڈیل مین زبان حلال ہے۔مرد کو چاہیئے جو کہے سو کرے نہین تو جیبھ حیوان کو بھی خدا نے دی ہے۔ پھر حیوان اور انسان مین کیا تفاوت ہے؟
نوفل نے اُس لکڑھارے بوڑھے کو پاس بلا کر پوچھا۔کہ سچ کہہ اصل کیا ہے؟ حاتم کو کون پکڑ لایا؟ اُس بیچارے نے سر سے پاؤن تک جو گذرا تھا راست کہہ سنایا۔اور کہا کہ حاتم میری خاطر آپ سے آپ چلا آیا ہے. نو فل یہ ہمت حاتم کی سنکر متعجب ہوا۔کہ باں بے تيری سخاوت!اپنی جان کا بھی خطرہ نکیا۔ جتنے جھوٹھے دعوی حاتم کے پکڑ لانے کے کرتے تھے۔ حکم کیا کہ اُنکی ٹنٹر یان کس کر پان سو اشرفی کے بدلے پان پان سی جوتیان اُنکے سر پر لگاؤ کہ اُنکا بھیجا نکل پڑے. و و نہین تھر تھر بیزارین پڑنے لگین کہ ایک دم مین سر اُنکے گنجے ہو گے. سچ ہے۔ جھو ٹھ بولنا ایسلی گناہ ہے