میت ہر ماہی مقاله اول تالیا ان گام او سوا سے او سکے جبر وغرو بہت عمد وعدہ فائس اکثر دیا سے مسح کے ساتھ کنارے پر بجاتے ہیں اوکشتی کو دیکھنا مخلوقا چاہیے کہ کیڑ کر ایک چوب خشک کر اسکے جب اموال کے دریا میں جاری کیا اور کس بسرعت سے ہوا کے سہارے سے چلتی ہو اوربا لغیر قائم اوس حکت کو یکے کی اللہتعالی نے بہاروں کو باہم نے کیا اور سامان کو دیکھیے کہ ہارون کے لئے الہ لیا اور جویری نے او کو کیونکر کھا پر حیض قابلیت بگھلنے کی رکھتے ہیں جیسے سونا چاندی لوہا سیار اگا تانیا وغیرہ اور بعض یہ قابلیت نہیں نے تلک کہتے جیسے فیروزه یاقوت سپیرا پیاز مرد وغیرہ انکو نکالتے ہیں اور صاف کرتے ہیں اور برتن اور زیور طرح طرح کے بناتے ہیں اور میں لیے اور بین آور میں ہی امراض ایتھے کی طرح جاری بین جیسے رال گندھات کے غیر اگریہ اشیا معدوم ہوجا دین کسی شہر سے او اس قوم کے نوم کے اور میر میاد جسمانی : واقع ہو جانے پھر یوں کے اقسام اور نباتات کی اطلاع کو دیکھیے ایک ہی پانی اور ایک ہی زمین سے پیدا ہوئے اور نا ہی حاصل ہے مرہ کیفیت تاثیر مین ایک سے ایک جد البعض بعض کے ساتھ مشابہ ہیں بعض غیر متشابہ کوئی روئیدگی ایسی نہیں تو ہمیں حصول : کچھ فائدہ نہ گرے تجربہ مطلع کیں کرہی سکے اور جانوروں کو دیکھیے کہ بعض ہوا پر اوڑتے میں اور بعض میں نہا دوربین پانی پر چھتے تناظر ہو توا بین جو جانور خشکی میں چلتے ہیں چلتے ہیں اور بعض چار پر سے اور بعض کے سیکریون پیر وین جیسے محاط پہنت مان انلاین گرایی را ویکی مصوتون هر ملوں کو دیکھیے تو حیران ہو جائے بڑے جانوروں کا کیا ذ کر چھوٹے جانوروں میں سے بھی ساتھ امو ور ایسی صنعتین کھی کا حال پہلے سنا چکے ہیں کہ دوسکی منت بین مهندس کبھی حیران متواری کبھی حیران مت ایک قبولی قسم ایسی ایسی صنعتین عجیبہ اور غربیبہ موجود ہین کر چونکہ ہر وقت پیش نظرمین تعجب نہیں ہوتا آدمی اپنے ہی تین دیکھے می اپنے ہی شین دیکھتے نہیں کہتے ہیں صنعتیں ہو حمد ہی کے تمام عمرمین او سکے عشر عشیر مطلع ہونا دشوار ہر حق تعالیٰ فرماتا ہی فوقی ہماری شان خلاقی موجود ہے کیوں نہیں دیکھے غور سے تو دیکھو کہ اس کو جوڑا پیدا کیا بیا عورت مرد اور زنجیر کو کو ا ا ا ا ا ا ا ا ا اور الف منی و است حرکت جماع کے در کے دن سے باہر حال چھ موت کے نظر کے ساتھ عورت کیا آوران اقسام ظاہر دن کی ترتیب کی جیسا کہ تفصیل اسکی کتاب میں مذکور ہوگی اور راو سمین جان پیدا کی اور خون حیض عور تو نمی رگوں سے بیٹھا پھیکا چونکہ کتاب میں بالتفصیل مذکور ہر بنے اور تفصیل کو کر جان کے ترک کیا اور کیا شان اوسکی پر کرجب رحم بعد انقضائے موت سنٹرول : حمل کے بر طفل سے یہ تنگ ہوتا ہوا ا سکو ایک راہ سے خارج جسم کے واقع کردیتا ہو اورجب بچہ باہر اتا ر فوگر استان عورت ایک دو محور مین لینا پر حق تعالی اس سے دور و باہر کھاتا ہو تعدار سکے دانت دیتا ہو تا غذا سے محروم رہے پھر جب جوان ہوتا ہی ابھی شکریہ قوت جماع دیتا ہی کا اسیر بنائے نوع انسانی سورت ہی اسی وقت موت تک ہر ایک پر حالات جی یہ نوری یعنی اوری مجیدیشیده سبت طاری رہتے ہیں۔ گاہ ایک مخلوق میں را دید کوریکی مقدارا اور معیت بیشہ کے اسقدر عجائب این زمین انسان پھاند ریا کے عباب کا کا شمار ہی کو ما یاسین میل و علان کل استان استان الثورات الامن منتقد مدد و سرا
Page:Ajayeb Ul Maqlookhat, Urdu.pdf/8
Appearance