ہند کی سب سے بڑی سرکار نوشہ گنج بخش
mansoor afaq
منقبت سید نو شہ گنج بخش (رح)
بر کتوں کا مطلع ئ انوا ر نو شہ گنج بخش (رح)
ہند کی سب سے بڑی سر کا ر ۔ نو شہ گنج بخش(رح)
جا نشین ِ غو ث اعظم (رح) ، افتخا ر ِ اولیا ئ
وا قف اسرا ر د ر اسرا ر نو شہ گنج بخش(رح)
حاکم مِلک شر یعت ، مالک ، شہر سلوک
در سعا د ت نقطہ ئ پر کا ر نو شہ گنج بخش(رح)
آفتا ب ِ فیض ِ عالم ہیں جہا ں پر غو ث پاک(رح)
اُس فلک پر ثا بت و سیا ر نو شہ گنج بخش(رح)
صر ف مشر ق میں نہیں ان کی ولا یت کا ظہو ر
خا کِ مغر ب پہ بھی رحمت با ر نو شہ گنج بخش(رح)
بر ق نو شاہی (رح) سے لے کر حضرت معر و ف تک
نیکیوں سے اک بھر ا گلز ا ر، نو شہ گنج بخش(رح)
چو متے ہیں حا ملانِ جبہ ود ستا ر پا ئو ں
محتر م اتنا سگ ِ در با ر ، نو شہ گنج بخش(رح)
عالم ِ لا ہو ت کی صبح مقد س ان کی ذا ت
رو شنی کا نر م و حد ت زار ، نو شہ گنج بخش(رح)
بخش دیں بینا ئی نا بینا ئو ں کو اک دید سے
ہم نہیں کہتے ہیں او تا ر ،نو شہ گنج بخش(رح)
ہر قد اس شخص کا پھر بخت آور ہو گیا
مہر با ں جس پہ ہو ئے اک با ر، نوشہ گنج بخش(رح)
زہد و تقو یٰ ، فقر و فا قہ اور عمل کے با ب میں
اک مجسم نو ر کا اظہا ر ، نو شہ گنج بخش(رح)
وہ مجد د ہیں ہز ا ر وں سا ل پر پھیلے ہو ئے
یو ں سمجھ لو حا صلِ ادوا ر، نو شہ گنج بخش(رح)
منز ل علم و فضلیت ، رو نق را ہِ سلو ک
کشف ِ مصطفو ی (ص) کے پیر و کا ر ، نو شہ گنج بخش(رح)
کہتے ہیں بے رو ح جسمو ں کو جگا تا تھا مسیح
مر دہ دل کر دیتے ہیں بید ار نو شہ گنج بخش (رح)
ہا ں ! سر تسلیم خم کر تا ہے در یا ئے چنا ب
پانیوں کے جیسے ہیں مختا ر نو شہ گنج بخش(رح)
غو ث ِ اعظم (رح) کے شجر کا خو شہ ئ فقر و سلو ک
قا دری گلز ا ر کے پندا ر نو شہ گنج بخش(رح)
شمع ِ عر فا ن الہی ، شب زدو ں کی رو شنی
سا عتِ پر نو ر سے سر شا ر نو شہ گنج بخش(رح)
دا ستا نو ں میں مر ید ِ با صفا ہیں آپ کے
صا حبا ں مر ز ا کے بھی کر دا ر نو شہ گنج بخش(رح)
جن و انسا ں ہی نہیں ہیں آپ کے خدا م میں
آپ کے قد سی ہیں خد متگا ر نو شہ گنج بخش(رح)
پا ئے نو شہ کے تلے بہتے ہیں در یا ئے بہشت
سا قی ئ کو ثر (ص) کے ہیں میخو ار نو شہ گنج بخش(رح)
آپ کا اسمِ گرا می وقت کے ہو نٹو ں پہ ہے
تذ کر ہ کر تا ہے سب سنسا ر نو شہ گنج بخش (رح)
صر ف یو ر پ ہی نہیں ہے آپ کے ہیں معتقد
ہند سند ھ اور کا بل و قند ھا ر نو شہ گنج بخش(رح)
حکمرا نو ں کی جبینیں ان کے در پہ خم ہو ئیں
مو تیو ں والے سخی سردا ر نو شہ گنج بخش(رح)
مو ج بن جا ئے گی کشتی تیر ے میرے وا سطے
یو ں اتا ریں گے ہمیں اس پا ر نو شہ گنج بخش(رح)
اس شجر پر مو سمو ں کی ضر ب پڑ تی ہی نہیں
کس تسلسل سے ہیں سایہ دا ر‘ نو شہ گنج بخش(رح)
انبسا ط و لطف کا پہلو جہا ں کے وا سطے
نسلِ انسا نی کے ہیں غم خوا ر ‘نوشہ گنج بخش(رح)
کیوں نہ ہو ں عر فا ن کے مو تی در و دیوار میں
قصرِ نو شا ہی کے ہیں معما ر‘ نو شہ گنج بخش(رح)
سلسہ نو شا ہیہ کا ہر جر ی ہے اولیا ئ
لشکر ِ حق کے جو ہیں سا لا ر ‘نو شہ گنج بخش(رح)
آپ کے در کے فقیر وں میں قطب اقطا ب ہیں
کون عظمت سے کر ے انکا ر‘ نو شہ گنج بخش(رح)
نو رو ں نہلا ئے ہو ئے چہر ے کی کر نیں اور ہم
کیا صبا حت خیز تھے رخسا ر‘نو شہ گنج بخش(رح)
آپکے فیض ِ نظر کی دا ستا ں اتنی ہے بس
سب مسلما ں ہو گئے کفا ر ‘نو شہ گنج بخش(رح)
اعتما دِ ذا ت کی کچھ غیر فا نی سا عتیں
پ کے دم سے کر امت با ر‘ نو شہ گنج بخش(رح)
بد عقید ہ زند گا نی کی سلگتی دھو پ میں
آپ ٹھہر ے سا یہئ دیوا ر ‘نو شہ گنج بخش(رح)
ابن عر بی (رح) کے تصو ف کی کہا نی کیا کر وں
ہیں عد م کا اک عجب اظہا ر‘ نو شہ گنج بخش(رح)
مل گئی ان کی دعا سے کتنی دنیا کو شفا
امتِ بیما ر کے عطار ‘نو شہ گنج بخش (رح)
سن رہا ہوں آج تک عشق ِ محمد (ص) کی اذا ں
مسجد نبوی کا اک مینا ر‘ نو شہ گنج بخش(رح)
فر ض ہے ہر شخص پر ذکر گرا می آپ کا
ایک اک نو شا ہی کا پر چا ر‘ نو شہ گنج بخش(رح)
تر دما غو ں میں یہ صبح فکر کی رعنا ئیاں
آپ کے بس آپ کے افکا ر‘ نو شہ گنج بخش(رح)
معتر ف ہے ذہن انسا ں آپ کے عر فان کا
دل غلا می کا کر ے اقرا ر ‘نو شہ گنج بخش(رح)
خا کِ رنمل کو مسیحا ئی کی رفعت مل گئی
ہیں وہا ں جو دفن زند ہ دا ر‘ نو شہ گنج بخش(رح)
اک ذر اچشمِ عنا یت چا ہتا ہو ں آپ کی
آپ کا مجھ کو کر م در کا ر ‘نو شہ گنج بخش(رح)
کھو ل در واز ے جہا ں با نی کے میر ی ذا ت پر
میں بہت ہو ں مفلس و نا دار‘ نو شہ گنج بخش(رح)
چہر ہ ئ انوا ر کی بس اک تجلی دے مجھے
خوا ب ہی میں بخش دے دیدا ر‘ نو شہ گنج بخش(رح)
حضرت معر و ف نو شا ہی کی فر ما ئش ہو ئی
رُ سعا د ت یہ لکھے اشعا ر ‘نو شہ گنج بخش(رح)
منقبت منصو ر پڑ ھ پو رے ادب آداب سے
ن رہے ہیں شعر خو د سر کا ر‘ نو شہ گنج بخش(رح)
=====