صفحہ 2 - کامیابی کے اصول۔ ایک نظر ثانی

From Wikisource
Jump to navigation Jump to search
please do not remove empty parameters (see the template documentation).
پختون کی بیٹی by سیدتفسیراحمد
۔۔۔ باب دوم - اجتماع


ان مقاصد کو حاصل کرنے کے کیا بنیادی اصول ہیں؟ اباجان نے مجھ سے سوال کیا؟

” سوچ جب مقصد مقرر ، مستقل مزاجی، اورخواہشِ شدید“۔

ہر کام کا آغاز سوچ سے ہوتاہے۔ ہم کو سوچ کی اہمیت کو ان کی ذہنوں ہیں نقش کرانا ہے۔ ان کو بتا دینا ہے کہ مقصدِ مقرر ، مزاج ِقائم اور خواہشِ شدید کس طرح سوچ کوبلندکرتی ہے اور اس کا نتیجہ مکمل کامیابی ہے۔انسان کا دماغ جو سوچتا ہے اور اس پریقین کرتا ہے دماغ اس کو حاصل کر لیتا ہے۔ جوکھوں اور عزیمت کے ارادوں میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو آگے بڑھنے سے نہیں ڈرتے۔ اور پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے“۔

”یقین ِکامل، سوچ کو کس طرح مضبوط کرتاہے“۔ اباجان نے سعدیہ سے سوال کیا۔

” یقین ِکامل دماغ کا کیمیاگر ہے۔ جب یقینِ کامل اورسوچ کی آمیزش ہوتی ہے۔ تو تحت الشعور اُن کے ملنے کو محسوس کر لیتا ہے اورتحت الشعور، سوچ کو ایک روحانی کیفیت میں تبدیل کر دیتا ہے اور اس کو علمیت لامحدود میں منتقل کردیتا ہے۔ جس طرح کہ دعا اللہ کو پہنچتی ہے“۔ سعدیہ نے بڑے فخر سے کہا۔

اباجان نے مجھ سے سوال کیا۔” تمام جذبات جو انسان کو فائدہ پہنچاتے ہیں کون سے تین جذبات سب سے ذیادہ طاقتور ہیں؟“

میں نے کہا۔” ایمان ، محبت، شہوت کے جذبات سب سے ذیادہ طاقتور ہیں۔ جب یہ تین جذبات ملتے ہیں وہ خیالات کو اس طرح رنگ دیتے ہیں کہ خیال ایک دم سے تحت ا لشعور میں پہنچ جاتا ہے اور وہاں روحانی کیفیت بن کر وہاں سے جواب لاتا ہے۔ایمان ایک ایسی دماغی کیفیت ہے جو کہََََََََ کو جواب دینے کی ترغیب کرتی ہے“۔

” ایمان کا دوسرا کام کیا ہے؟“۔

” آٹو سیجیشن کیا ہے؟“

” جس طرح نماز میں اللہ تعالٰی سے شعوری طور سے دُعا مانگی جاتی ہے۔اور ایمان اس دُعا کو روحانی طور مضبوط کرتا ہے تاکہ دُعا تحت الشعوراللہ تعالٰی تک پہنچ جاۓ اسی طرح آٹو سیجیشن میں ہم ایک مقصدکو بار بار دُہراتے ہیں۔یہ دُہرانا، ہمارے مقصد کو شعور سے تحت الشعور میں منتقل کرتا ہے۔ تحت الشعور، یقینِ کامل کی وجہ سے اس مقصد کو حاصل میں تیزہو جاتا ہے“

” حواس خمسہ کیا ہیں ؟ اور اُن کے کام کیا ہیں؟“