سورۃ الواقعة

From Wikisource
Jump to: navigation, search

تعارف سورت[edit]

عربی متن[edit]

اردو تراجم[edit]

احمد علی[edit]

شروع الله کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

جب واقع ہونے والی واقع ہو گی (۱) جس کے واقع ہونے میں کچھ بھی جھوٹ نہیں (۲) پست کرنے والی اور بلند کرنے والی (۳) جب کہ زمین بڑے زور سے ہلائی جائے گی (۴) اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر چورا ہو جائیں گے (۵) سو و ہ غبار ہو کر اڑتے پھریں گے (۶) اور (اس وقت) تمہاری تین جماعتیں ہو جائیں گی (۷) پھر داہنے والے کیا خوب ہی ہیں داہنے والے (۸) اوربائیں والے کیسے برے ہیں بائیں والے (۹) اور سب سے اول ایمان لانے والے سب سے اول داخل ہونے والے ہیں (۱۰) وہ الله کے ساتھ خاص قرب رکھنے والے ہیں (۱۱) نعمت کے باغات ہوں گے (۱۲) پہلوں میں سے بہت سے (۱۳) اور پچھلوں میں سے تھوڑے سے (۱۴) تختوں پر جو جڑاؤ ہوں گے (۱۵) آمنے سامنے تکیہ لگائے ہوئےبیٹھے ہوں گے (۱۶) ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے آمد و رفت کیا کریں گے (۱۷) آبخورے اور آفتابے اور ایسا جام شراب لے کر جو بہتی ہوئی شراب سے بھرا جائے گا (۱۸) نہ اس سے ان کو دردِ سر ہوگا اور نہ اس سے عقل میں فتور آئے گا (۱۹) اور میوے جنہیں وہ پسند کریں گے (۲۰) اور پرندوں کا گوشت جو ان کو مرغوب ہو گا (۲۱) اوربڑی بڑی آنکھوں والی حوریں (۲۲) جیسے موتی کئی تہو ں میں رکھےہوئے ہوں (۲۳) بدلے اس کے جو وہ کیا کرتے تھے (۲۴) وہ وہاں کوئی لغو اور گناہ کی بات نہیں سنیں گے (۲۵) مگر سلام سلام کہنا (۲۶) اور داہنے والے کیسے اچھے ہوں گے داہنے والے (۲۷) وہ بے کانٹوں کی بیریوں میں ہوں گے (۲۸) اور گتھے ہوئے کیلو ں میں (۲۹) اورلمبے سایوں میں (۳۰) اور پانی کی آبشاروں میں (۳۱) اور باافراط میوں میں (۳۲) جونہ کبھی منقطع ہوں گے اور نہ ان میں روک ٹوک ہو گی (۳۳) اور اونچے فرشوں میں (۳۴) بے شک ہم نے انہیں (حوروں کو) ایک عجیب انداز سے پیدا کیا ہے (۳۵) پس ہم نے انہیں کنواریاں بنا دیا ہے (۳۶) دل لبھانے والی ہم عمر بنایا ہے (۳۷) داہنے والوں کے لیے (۳۸) بہت سے پہلوں میں سے ہوں گے (۳۹) اور بہت سے پچھلوں میں سے (۴۰) اوربائیں والے کیسے برے ہیں بائیں والے (۴۱) وہ لووں اور کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے (۴۲) اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں (۴۳) جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ راحت بخش (۴۴) بے شک وہ اس سے پہلے خوش حال تھے (۴۵) اور بڑے گناہ (شرک) پر اصرار کیا کرتے تھے (۴۶) اور کہا کرتے تھے کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا ہم پھر اٹھاے جائیں گے (۴۷) اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی (۴۸) کہہ دو بے شک پہلے بھی اور پچھلے بھی (۴۹) ایک معین تاریخ کے وقت پر جمع کیے جاویں گے (۵۰) پھر بے شک تمہیں اے گمراہو جھٹلانے والو (۵۱) البتہ تھوہر کا درخت کھانا ہوگا (۵۲) پھر اس سے پیٹ بھرنے ہوں گے (۵۳) پھر اس پر کھولتا ہوا پانی پینا ہوگا (۵۴) پھر پینا ہو گا پیاسے اونٹوں کا سا پینا (۵۵) قیامت کے دن یہ ان کی مہمانی ہو گی (۵۶) ہم نے ہی تمہیں پیدا کیا ہے پس کیوں تم تصدیق نہیں کرتے (۵۷) بھلا دیکھو (تو) (منی) جو تم ٹپکاتے ہو (۵۸) کیا تم اسے پیدا کرتے ہو یا ہم ہی پیدا کرنے والے ہیں (۵۹) ہم نے ہی تمہارے درمیان موت مقرر کر دی ہے اور ہم عاجز نہیں ہیں (۶۰) اس بات سے کہ ہم تم جیسے لوگ بدل لائیں اور تمہیں ایسی صورت میں بنا کھڑا کریں جو تم نہیں جانتے (۶۱) اور تم پہلی پیدائش کو جان چکے ہو پھر کیوں تم غور نہیں کرتے (۶۲) بھلا دیکھو جو کچھ تم بوتے ہو (۶۳) کیا تم اسے اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں (۶۴) اگر ہم چاہیں تو اسے چورا چورا کر دیں پھر تم تعجب کرتے رہ جاؤ (۶۵) کہ بے شک ہم پر تو تاوان پڑ گیا (۶۶) بلکہ ہم بے نصیب ہو گئے (۶۷) بھلا دیکھو تو سہی وہ پانی جو تم پیتے ہو (۶۸) کیا تم نے اسے بادل سے اتارا ہے یا ہم اتارنے والے ہیں (۶۹) اگر ہم چاہیں تو اسے کھاری کر دیں پس کیوں تم شکر نہیں کرتے (۷۰) بھلا دیکھو تو سہی وہ آگ جو تم سلگاتے ہو (۷۱) کیا تم نے اس کا درخت پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرنے والے ہیں (۷۲) ہم نے اسے یادگار اور مسافروں کے لیے فائدہ کی چیز بنا دیا ہے (۷۳) پس اپنے رب کے نام کی تسبیح کر جو بڑا عظمت والا ہے (۷۴) پھر میں تاروں کے ڈوبنے کی قسم کھاتا ہوں (۷۵) اور بے شک اگر سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے (۷۶) کہ بے شک یہ قرآن بڑی شان والا ہے (۷۷) ایک پوشیدہ کتاب میں لکھا ہوا ہے (۷۸) جسے بغیر پاکو ں کے اور کوئی نہیں چھوتا (۷۹) پروردگار عالم کی طرف سے نازل ہوا ہے (۸۰) سو کیا تم اس کلام کو سرسری بات سمجھتے ہو (۸۱) اور اپنا حصہ تم یہی لیتے ہو کہ اسے جھٹلاتے ہو (۸۲) پھر کس لیے روح کو روک نہیں لیتے جب کہ وہ گلے تک آ جاتی ہے (۸۳) اورتم اس وقت دیکھا کرتے ہو (۸۴) اور تم سے زیادہ ہم اس کے قرب ہوتے ہیں لیکن تم نہیں دیکھتے (۸۵) پس اگر تمہارا حساب کتاب ہونے والا نہیں ہے (۸۶) تو تم اس روح کو کیوں نہیں لوٹا دیتے اگر تم سچے ہو (۸۷) پھر (جب قیامت آئے گی) اگر وہ مقربین میں سے ہے (۸۸) تو (اس کے لیے) راحت اور خوشبو میں اور عیش کی باغ ہیں (۸۹) اور اگر وہ داہنے والوں میں سے ہے (۹۰) تو اے شخص تو جو داہنے والوں میں سے ہے تجھ پر سلام ہو (۹۱) اور اگر وہ جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہے (۹۲) تو کھولتا ہوا پانی مہمانی ہے (۹۳) اور دوزخ میں داخل ہونا ہے (۹۴) بے شک یہ تحقیقی یقینی بات ہے (۹۵) پس اپنے رب کی نام تسبیح کر جو بڑا عظمت والا ہے (۹۶)۔